نئی دہلی 8 اکتوبر (ایس او نیو/ایجنسی) لوک جن شکتی پارٹی لیڈر، مرکزی وزیر اور بہار کے سرکردہ سیاسی لیڈروں میں سے ایک رام ولاس پاسوان کا آج جمعرات کو طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ 74 سالہ پاسوان مدت دراز سے دل اور گردے کی تکلیف میں مبتلا تھے اور بغرض علاج انھیں دہلی کے فورٹس اسکورٹس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔گزشتہ ہفتے ان کی حالت بگڑنے پر دل کا آپریشن کیا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر بیٹے چراغ پاسوان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ دی۔
ایک ہی درخت کے پتے:
لالو، رام ولاس اور نتیش… ایک ہی درخت کے پتے کہلائے جا سکتے ہیں۔ ان تینوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ تینوں نے غریبی میں ہی جدوجہد شروع کی اور آخر کار وہ حیثیت حاصل کرلی جس کا ہر لیڈر خواب دیکھتا ہے۔ رام ولاس پاسوان کی پیدائش 5 جولائی 1946 کو کھگڑیا کے سدور دیہات شہربننّی میں ہوا تھا۔ رام ولاس اپنے والد جامن پاسوان کے تین بچوں میں سب سے بڑا تھا ، اس کے بعد پشوپتی پارس اور رامچندر پاسوان تھے۔ والد نے تینوں بھائیوں کو کافی غربت میں پالا تھا۔ شہربنّی سے اسکولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایم اے اور ایل ایل بی کیا۔
جب رام ولاس ڈی ایس پی بن رہے تھے
اس کے بعد انہوں نے نہ صرف یو پی ایس سی کے لئے تیاری کی بلکہ اسے کریک بھی کیا۔ رام ولاس کو ڈی ایس پی کے عہدے کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن شاید انہیں کہیں اور جاناتھا۔ جب انہیں یو پی ایس سی میں منتخب کیا گیا تبھی سماج وادی رہنما رام ساجیون کے ساتھ رابطے میں آئے اور سیاست کا رُخ کرلیا۔ 1969 میں وہ الولی اسمبلی سے یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور اسمبلی پہنچ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کے نتیجے میں 1974 میں ، راج نارائن اور جے پی کے مضبوط پیروکار کے طور پر وہ لوک دل کے جنرل سکریٹری بن گئے۔ وہ ایمرجنسی کے اہم رہنماؤں جیسے راج نارائن ، کرپوری ٹھاکر اور ستیندر نارائن سنہا کے قریبی بھی رہے۔ ان کی شادی راجکماری دیوی سے 1960 میں ہوئی تھی۔ بعد میں1981 میں راجکماری دیوی کو طلاق دے کر 1983 میں رینا شرما کے ساتھ دوسری شادی کی ، ان کی دونوں بیویوں سے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ انہوں نے کوسی کالج ، کھگڑیا اور پٹنہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے اور لاء گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی۔
5 دہائیوں تک سیاست میں رہتے ہوئے دو بار ریکارڈ توڑ جیت اور 6 مرتبہ مرکز میں وزیر رام ولاس پورے پانچ دہائیوں تک بہار اور ملک کی سیاست پر چھائے رہے۔ اس دوران دو بار انہوں نے لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی بنا ڈالا۔ ان کے نام ایک اور ریکارڈ بھی ہے جو شائد کوئی دوسرا لیڈر نہ بناپائے اور وہ یہ ہے کہ رام ولاس ملک کے 6 وزرائے اعظم کی کابینہ میں وزیر رہے۔ سیاست میں آگے کیا ہونے والا ہے اسے رام ولاس پہلے بھانپ لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آر جے ڈی سپریمو لالو یادو نے انہیں سیاست کا ماہر موسمیات تک قرار دیا تھا ۔